Monday, March 13, 2017

!! تین سوال اور کسان !!

0 comments
 !! تین سوال اور کسان !!

 ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیز کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں
وزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 33 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔
سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟
سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟
بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے
 ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے.
انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمام دانشور اپنے دئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا.
چلتے چلتے رات ہوگئی ،اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔
کسان نے وزیر کو پہچان لیا ،وزیر نے اس کو اپنی مشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کی جواب کچھ یوں دئے
دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے ۔
دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔
تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کےجواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا ،سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔
یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگران بنانے کی بھی پیشکش کی۔کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا.
وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے ۔وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاؤگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندے تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاؤگے۔یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا ۔
کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا ۔یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا
تو کسان نے کہا کہ
دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے
 جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے...


!! مائیکل جیکسن اور قدرت کا فیصلہ !!

0 comments
!! مائیکل جیکسن اور قدرت کا فیصلہ !!
وہ اللہ سے لڑ رہاتھا‘ بچپن میں کسی نجومی نے اسے بتایا تھا وہ ستر سال کی عمر پائے گا‘ اس نے نجومی کی بات سنی اور بڑے دعوے سے جواب دیا
’’میں تمہیں ڈیڑھ سوسال تک زندہ رہ کر دکھاؤں گا‘‘
نجومی نے حیرت سے سیاہ فام نوجوان کی طرف دیکھا‘ نوجوان بولا ’’افسوس تم مجھے ڈیڑھ سو سال تک زندہ نہیں دیکھ سکو گے کیونکہ تم مجھ سے سو سال پہلے مر چکے ہوگے‘‘۔
نجومی نے اس بے وقوفانہ دعوے پر قہقہہ لگایا اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ہم اگر آج اس کی زندگی کا تجزیہ کریں تو یہ ہمیں دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک قدرت کے فیصلوں کا انکار اور دوسرا موسیقی۔
وہ دنیائے موسیقی کا شہنشاہ تھا۔ اس نے راک‘ فنک اور سول موسیقی میں کمال کر دیا۔وہ کنگ آف میوزک تھا‘ وہ اپنے والد کا ساتواں بچہ تھا‘ یہ سیاہ فام خاندان تھا اور یہ بھی دوسرے سیاہ فام خاندانوں کی طرح برسوں سے جسمانی‘ ذہنی اور روحانی غلامی سے آزادی کی کوشش کر رہا تھا۔
بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں امریکہ کے غلاموں کو تھوڑی تھوڑی آزادی ملنا شروع ہوئی تو انہوں نے سفید فام آقاؤں کے ان پسندیدہ اور محبوب شعبوں کا انتخاب کیا جن سے یہ لوگ امریکی معاشرے میں وقار بھی حاصل کر سکتے تھے اور سفیدفام آقاؤں سے بدلہ بھی لے سکتے تھے چنانچہ یہ لوگ موسیقی اور رہبانیت میں جانے لگے‘ یہ لوگ پادری بن گئے اور راک موسیقی کا میدان سر کرنے لگے۔
اس دور میں اس کے بڑے بھائیوں نے بھی ایک چھوٹا سا بینڈ بنالیا‘ یہ لوگ کلیساؤں کے سامنے ریلوے اسٹیشن اورڈاؤن ٹاؤن میں کھڑے ہو جاتے‘ میوزک بجاتے‘ گاتے‘ ڈانس کرتے اور لوگ ان کے فن کی داد دیتے۔ یہ لوگ چھوٹے بڑے سٹیج پر بھی پرفارم کرتے تھے اور انہوں نے اپنا ایک البم بھی بنایا اور ان کے ایک گانے ’’آئی وانٹ یو بیک‘‘ نے 1969ء میں مقبولیت بھی حاصل کی تھی لیکن اس کے باوجود یہبینڈ صف اول میں شامل نہ ہو سکا۔ ننھا گلوکار اس بینڈ میں طنبورہ اور بونگو بجاتا تھا‘ اس کے ذہن میں بے شمار نئے آئیڈیاز آتے تھے‘ وہ ان آئیڈیاز کو عملی شکل بھی دینا چاہتا تھا لیکن وہ اپنے بڑے بھائیوں اور والد کے جبر کا شکار تھا۔ اس کے والد اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بناتے تھے جبکہ وہ اپنے چھ بڑے بھائیوں کا’’ چھوٹا‘‘ تھا۔
وہ اس سے ذاتی ملازم جیسا سلوک کرتے تھے ‘ اس فضا میں اس کے آئیڈیاز گھٹ گھٹ کر مرنے لگے تھا۔وہ جینئس تھا‘ وہ تخلیق کے جوہر سے شہ رگ تک بھرا ہوا تھا اور یہ حقیقت ہے ایسے لوگ زیادہ دنوں تک دوسروں کے ماتحت نہیں رہ سکتے چنانچہ اس نے بھی ایک دن بھائیوں کی غلامی کا طوق اپنے گلے سے اتار دیا۔
وہ جیکسن فائیو سے الگ ہو گیا اور اس نے امریکہ کے مشہور موسیقار کوئنسی جونز کے ساتھ مل کر اپنا پہلا سولو البم ’’آف دی وال‘‘ لانچ کر دیا‘ یہ البم 1978ء میں ریلیز ہوا تواس کی ایک کروڑ کاپیاں فوراً فروخت ہو گئیں۔ اس البم کے تین گانے ڈونٹ سٹاپ‘ ٹل یو گٹ اینف اور راک ودھ یو چند ماہ میں امریکی اور یورپین باشندوں کے ہونٹوں کا حصہ بن گئے اور مائیکل جیکسن موسیقی کا دیوتا بن کر پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔
یہ اس کی زندگی کی پہلی کامیابی تھی‘ یہ کامیابی اس کیلئے پرانی شراب ثابت ہوئی اور وہ شہرت‘ غرور اور تکبر کا شکار ہو گیا اور یہی وہ دور تھا جب اس نے نیویارک کے نجومی کو ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنے کا چیلنج دے دیاتھا۔ مائیکل جیکسن کو چار چیزوں سے نفرت تھی‘ اسے اپنے سیاہ رنگ سے نفرت تھی‘ وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا‘ اسے گمنامی سے نفرت تھی‘ وہ دنیا کا مشہور ترین شخص بننا چاہتا تھا‘ اسے اپنے ماضی سے نفرت تھی‘ وہ اپنے ماضی کو اپنے آپ سے کھرچ کر الگ کردینا چاہتا تھا
اور اسے عام لوگوں کی طرح ساٹھ‘ ستر یا اسی برس میں مر جانے سے بھی نفرت تھی ‘ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ وہ ایکایسا گلوکار بننا چاہتا تھا جو ایک سو پچاس سال کی عمر میں لاکھوں لوگوں کے سامنے ڈانس کرے‘ اپنا آخری گانا گائے ‘ پچیس سال کی گرل فرینڈ کے ماتھے پر بوسہ دے اور لاکھوں کروڑوں مداحین کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہو جائے۔
مائیکل جیکسن کی آنے والی زندگی ان چار نفرتوں اور ان چار خواہشوں کی تکمیل میں بسر ہوئی۔ اس نے 1982ء میں اپنا دوسرا البم ’’تھرلر‘‘ لانچ کیا‘ یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ ایک ماہ میں اس کی ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں اور یہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا تھا۔ تھرلر کے نو میں سے سات گانوں نے میوزک چارٹ میں جگہ بنا لی تھی۔
مائیکل جیکسن اب دنیا کا مشہور گلوکار تھا‘اس نے گمنامی کو شکست دے دی تھی‘ اس نے اس خواہش کی تکمیل کے بعد اپنی سیاہ جلد کو شکست دینے کا فیصلہ کیا
اس نے پلاسٹک سرجری اور سکن بلیچنگ شروع کرا دی۔ وہ پلاسٹک سرجری کے درجنوں مراحل سے گزرا لیکن اس نے صرف دو کا اعتراف کیا۔ اس نے پانی کی طرح پیسہ بہایا
اس نے امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت‘ جلد‘ نقوش اور حرکات و سکنات بدل گئیں۔ سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔
اس نے 1987ء میں بیڈ کے نام سے اپنی تیسری البم جاری کی‘ یہ گورے مائیکل جیکسن کی پہلی البم تھی‘ یہ البم بھی کامیاب ہوئی اور اس کی تین کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس البم کے بعد اس نے اپنا پہلا سولو ٹور شروع کیا۔
وہ ملکوں ملکوں ‘ شہر شہرگیا ‘ موسیقی کے شو کئے اوران شوز سے کروڑوں ڈالر کمائے۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔ اس کے بعد ماضی کی باری آئی ‘ مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر دیا‘ اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔
اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے‘ اس نے کرائے پر گورے ماں باپ بھی حاصل کر لئے اور اس نے اپنے تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔
اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی بھی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔
ڈیبی رو کے بطن سے اس کی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی‘ اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی لہٰذا اب اس کی آخری نفرت یا خواہش کی باری تھی۔
وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے دلچسپ حرکتیں کرتاتھا‘ مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا‘ وہ جراثیم‘ وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔
یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے‘ اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا‘ اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں‘ گردوں‘ آنکھوں‘ دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا‘ یہ ڈونر تھے جن کے تمام اخراجات وہ اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے چنانچہ اسے یقین تھا وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہے گا لیکن پھر 25جون کی رات آئی
اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی‘ اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئرڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا‘یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو یہ اسے ہسپتال لے گئے اور وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘ جو ننگےپاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا‘ جو کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا‘ جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا تھا۔
وہ شخص 50سال کی عمر میں صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔ اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی‘ یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔ مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا
تو پتہ چلا احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا‘ وہ سر سے گنجا تھا‘ اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ اس کے کولہے‘ کندھے‘ پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔ وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز‘ یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہان شفٹ ہو گیا جس میں ہر زندہ شخص نے پہنچنا ہے اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔
مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے‘ انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا
چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا کوئی فرعون وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ وہ قبر کو شکست نہیں دے سکتا لیکن حیرت ہے ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے‘ ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں گے۔۔۔۔


!! ستم ظریفی !!

0 comments

!! ستم ظریفی !!

ایک آٹھ سال کا بچہ مسجد کے ایک طرف کونے میں اپنی
چھوٹی بہن کے ساتھ بیٹھا
ہاتھ اٹھا کر اللہ پاک سے نہ
جانے کیا مانگ رہا تھا؟
 کپڑوں میں پیوند لگا تھا
مگر
نہایت صاف تھے
اس کے ننھےننھے سے گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے
 بہت سے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے
اور
وہ بالکل بےخبر اللہ پاک سے باتوں میں لگا ہوا تھا
جیسے ہی وہ اٹھا
ایک اجنبی نے بڑھ کر اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا
اور پوچھا
 اللہ پاک سے کیا مانگ رھے ہو؟
اس نے کہا کہ
میرے ابو مر گۓ ہیں
ان کےلئے جنت
میری امی ہر وقت
روتی رہتی ہے
اس کے لئے صبر
میری بہن ماں سے کپڑے مانگتی ہے
اس کے لئے رقم
اجنبی نے سوال کیا
 کیا آب سکول جاتے ہو؟
بچے نے کہا
ہاں جاتا ہوں
اجنبی نے پوچھا
کس کلاس میں پڑھتے ہو؟
نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا
ماں چنے بنا دیتی ہے
وہ سکول کے بچوں کو فروخت کرتا ھوں
بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ھیں
 ہمارا یہی کام دھندا ھے
بچے کا ایک ایک لفظ اس کے روح میں اتر رھا تھا
تمہارا کوئ رشتہ دار
اجنبی نہ چاہتے ھوۓ بھی بچے سے پوچھ بیٹھا؟
امی کہتی ھے غریب کا کوئ رشتہ دار نہیں ھوتا
امی کبھی جھوٹ نہیں بولتی
لیکن انکل جب ھم 
کھانا کھا رہے ھوتےہیں
اور میں کہتا ھوں
امی آپ بھی کھانا کھاؤ تو
وہ کہتی ھیں میں نے
 کھالیا ھے
اس وقت لگتا ھے
وہ جھوٹ بول رھی ھیں.
بیٹا اگر گھر کا خرچ مل جا
ۓ تو تم پڑھوگے؟
بچہ:بالکل نہیں
کیونکہ تعلیم حاصل کرنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ھیں
ہمیں کسی پڑھے ھو
ۓ نے کبھی نہیں پوچھا
پاس سے گزر جاتے ھیں
اجنبی حیران بھی تھا
اور
پریشان بھی
پھر اس نے کہا کہ
ہر روز اسی مسجد میں آتا ھوں
کبھی کسی نے نہیں پوچھا
 یہاں تمام آنے والے میرے والد کو جانتے تھے
مگر
ہمیں کوئی نہیں جانتا
بچہ زور زور سے رونے لگا
انکل جب باپ مر جاتا ھے تو سب اجنبی بن جاتے ھیں
اس کے پاس بچے کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا
ایسے کتنے مظلوم ھوں گے
جو حسرتوں سے زخمی ھیں
 بس ایک کوشش کیج
ۓ
اور
اپنے اردگرد ایسے ضروت مند
یتیموں اور بےسہارا کو
 ڈھونڈئے
اور
ان کی مدد کیجئے
مدرسوں اور مسجدوں میں سیمنٹ یا اناج کی بوری
دینے سے پہلے اپنے آس پاس کسی غریب کو دیکھ لیں
شاید اسکو آٹے کی بوری زیادہ ضرورت ہو
تصویر یا ویڈیو بھیجنے کی جگہ یہ میسج کم ازکم ایک یا دو گروپ میں ضرور شئیر کریں
خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں
 جزاک اللہ


!! تصویری مسخرے !!

0 comments
!! تصویری مسخرے !!

تصاویر کھینچنا اب ہر ایک کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے
جس کو دیکھو منہ ٹیڑھا کر کے کیمرے کے آگے کھڑا ہوکر یوں دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے بھینس گھاس کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی ہوتی ہے
اس قدر انہماک سے تصویر اترواتے ہیں جیسے اگلی دفعہ امریکہ کا صدر منتخب ہونا ہو او اگر زرا ساتصویر کا زاویہ ادھر ادھر ہواتو قیامتِ صغری برپا ہوجائے گی
کثیر تعداد میں لوگ فیس بک،و دیگر سوشل میڈیاز  کے لیے تصاویر بناتے ہیں.اور کچھ تو اس قدر پابند ہوتے ہیں کہ جو کام بھی کیا اس کی تصویر لے کر فیس بک پے فرض ِعین سمجھ کر ڈال دی.جیسے کھانا کھا رہے تو پکچر بنائی اور فیسبک پر ٹھونس دی
کہیں جارہےہوں تو اس کی تصویر لی اور دس بارہ بندوں کو ٹیگ کرکے کہا انجوائے ود فلاں
منہ پر مکھیاں بیٹھی ہوں تو انہیں اڑاتے ہوئے ایک تصویر لے لی.سونے لگے ہوں تو بستر سمیت اپنی لٹکی ہوئی بوتھی کی نمائش کرواتے ہوئے پکچر بنا لی.اور سوشل میڈیا پر جو ان کے فرینڈز ہیں ان کو عذابِ تصویر ناک میں مبتلا کردیتے ہیں.جو بیچارے نہ چاہتے ہوئے بھی لائک کر کے اپنے قومی کمنٹ نائس سے نوازتے ہیں
اور امید ہے کہ آخری وقت میں بھی یہ اپنی پکچر لے کر کہیں گے کہ عزرائیل سے روح نکلواتے ہوئے.اور ساتھ میں "فیلنگ خس کم جہاں پاک ود پرنس ابلیس'' کے ساتھ سٹیٹس اپلوڈ کریں گے
بہرحال آپ کو ایک اصل صورتحال بتاتا چلو کہ ایک صاحب نے تو بالکل حد ہی کر دی.جنازے کے ساتھ جاریے ہیں اور میت کو کندھا دیا ہوا ہے.ایک بازو پر میت سوار ہے اور دوسرے ہاتھ میں موبائل سے تصویربنا رہے ہیں.شکر ہے کہ ساتھ میں یہ نہیں لکھا کہ انجوائنگ جنازہ ود میت
اسی طرح ایک اور سیلفی دیکھی جس میں کسی کے دادا جان کی میت پڑی ہے اور ان کے پوتے پوتیاں آس پاس کھڑے ہیں.ایک مسکرا کر سب کے ساتھ سیلفی لے رہا ہے اور باقی وکٹریکا نشان بنا کر دادا کی چارپائی کے ساتھ کھڑے ہیں.
ارے بھیا کوئی قصور ہوگیا اس سے جس نے موبائل میں کیمرہ ڈال دیا یا اس سے خطا ہوگئی جس نے فیس بک بنائی.کچھ تو خدا کا خوف کرو.
جس طرح کی صورتحال ہے اس کے پیش نظر یہ عین ممکن ہے کہ اگر قبر میں کسی طرح کیمرے والا موبائل لے جایاجا سکتا تو وہاں سے بھی تصویر لے کر کہہ رہے ہوتے مرحوم منکر نکیر کو سوالوں کے جواب دیتے ہوئے.اور ساتھ میں کفن سے ہاتھ نکال کر وکٹری کا نشان بنارہے ہوتے.
خیر بات کر رہے تھے کہ کچھ لوگ تصاویر اس انداز سے کھنچواتے ہیں کہ دیکھنے والے کے منہ سے سبحان اللہ نکل جاتا ہے اور ناظر اس کے بعد دو رکعت نماز استغفار پڑھتا ہے
بعض لوگوں کا یہ انداز ہوتا ہے کہ موبائل کان سے لگا ہوتا ہے اور تصویر اترواتے ہیں.ارے بندۂ خدا موبائل کان سے لگانا لازمی ہے.وہ دراصل یہ بتانا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے بھی غلطی سے موبائل لے لیا ہے.اور اب دوسروں کو دکھائے بنا ان کے اندر کا کیڑا چین سے کسی کروٹ نہیں بیٹھے گا
اگلی قسم ان لوگوں کی ہے جو ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نوابوں کی طرح پوز دے رہے ہوتے ہیں.حالانکہ ان کے پاس ٹوتھ برش وہی پچھلے ڈیڑھ سال والا پرانا ہوتا ہے.اوریہی لوگ دو سمیں پاس رکھتے ہیں.جن میں سے ایک سم مہینہ بند رکھتے ہیں.اور جب کمپنی والےایک ماہ بعد کوئی آفر دیتے ہیں توبند شدہ سم نکال لیتے ہیں
اس کے بعد وہ لوگ آتے ہیں جو اپنے منہ سے بڑی عینکلگا کر پکچر بنواتے ہیں.زیادہ تر کالی عینک استعمال کرتے ہیں تاکہ نظر نہ لگے.کیونکہ اس قدر حسن و جمال سے بھر پور خربوزے جیسا منہ جب لوگ دیکھیں گے تو ان کے منہ سے فوراً در فٹے منہ ہی نکلے گا
بعض ہاتھ کھڑے کر کے تصویر بنواتے ہیں.یوں لگتا ہے کہ جیسے زنانہ پولیس نے ہینڈز اپ کروا لیے ہوں.نہ ناں کر سکتے ہیں اور نہ ہاں اس لیے درمیان تک ہی ہاتھ فضا میں بلند رکھتے ہیں
کچھ دو انگلیوں سے وکٹریکا نشان بناتے ہیں جیسے انہوں نے مسئلہ کشمیر ابھی ابھی حل کروایا ہو
اور کچھ کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال اسے یوں گھور رہے ہوتے ہیں کہ اتنا تو بلی چوہے کو پکڑتے ہوئے نہیں گھورتی
نوٹ: ہنسنا منع ہے


Sunday, March 12, 2017

٭ اسلامی نظریہ اور حقوق نسواں ٭

0 comments

٭ اسلامی نظریہ اور حقوق نسواں ٭

 مجھ سے اگر کوئی پوچھتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اسلام نے عورت کو سب سے پہلا حق زندگی کا دیا ہے کہ اس معاشرہ میں جہاں پیدا ہونے والی لڑکی باپ کے رحم و کرم پر ہوتی تھی کہ وہ اسے زندہ رہنے دے یا زندہ ہی زمین میں دفنا دے۔۔
اسلام نے اس ظلم کا خاتمہ کر کے عورت کو دنیا میں زندہ رہنے کا حق دلوایا۔
 اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اب تک پوری دنیا میں گیارہ کروڑ سے زائد لڑکیاں قتل کی جا چکی ہیں۔
اس نسل کشی کو رپورٹ میں ’’جینڈر سائڈ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے اسباب میں
 اسقاط حمل
 کارو کاری 
 نو عمری کی شادی اور 
 چین میں ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی کو نمایاں قرار دیا گیا ہے۔

 اسلام سے پہلے عرب معاشرہ میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رجحان عام تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے اور کلام باری تعالیٰ میں اس کے دو اہم اسباب بیان کیے گئے ہیں۔
 ایک ’’خشیۃ املاق‘‘ کہ فاقے کے ڈر سے بچی کو زندہ ہی دفن کر دیا جاتا تھا کہ یہ ساری زندگی دوسروں پر بوجھ رہے گی اور خود کما نہیں سکے گی۔
 اور دوسرا ’’عار‘‘ ہے کہ لڑکی کا باپ ہونا عار سمجھا جاتا تھا۔ اور جس کے گھر میں بچی پیدا ہوتی تھی وہ ’’تیواریٰ من القوم‘‘ لوگوں سے چھپتا پھرتا تھا کہ کوئی اس کو بچی پیدا ہونے کا طعنہ نہ دے دے۔
 اسلام نے اس کو سنگین جرم قرار دیا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بیٹیوں کی پرورش کر کے اور انہیں محبت و شفقت اور عزت و احترام فراہم کر کے دنیا کو یہ سبق دیا کہ بیٹی بھی نعمت ہوتی ہے اور عزت و احترام کی مستحق ہوتی ہے۔
 دیوان حماسہ میں اسلام کی اس تعلیم کے معاشرتی اثرات کو ایک عرب شاعر کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ:
غدا الناس مذقام النبی الجواریا
جب سے یہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) آیا ہے ہر طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوگئی ہیں۔
 مذکورہ بالا رپورٹ میں امریکی شہر ’’ڈیلاس‘‘ میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں نوبل انعام یافتہ بھارتی دانش ور امریتا سین نے اس صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف اسباب کے باعث دنیا بھر میں لڑکیوں کے اس قتل عام کی وجہ سے مردوں اور عورتوں کا فطری تناسب بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
 اور اقوام متحدہ کو اس سلسلہ میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر بھارت کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں مرد و خواتین کے درمیان عدم توازن خطرناک سطح تک پہنچ گیا ہے۔ البتہ بنگلہ دیش میں یہ تناسب بہت کم ہے۔
 انہوں نے کہا کہ ’’بچیوں کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی مار دینے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔‘‘
 رپورٹ میں بنگلہ دیش میں مرد و خواتین کے درمیان عدم توازن کو بہت کم بتایا گیا ہے جبکہ ہمارے خیال کے مطابق اگر پوری دنیا میں اس کا جائزہ لیا جائے تو مسلم معاشروں میں ہر جگہ یہ عدم توازن انتہائی معمولی دکھائی دے گا۔
 اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے لڑکیوں کے قتل کے جو دو اسباب بیان کیے ہیں وہ اگرچہ آج بھی دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں مگر عالم اسلام ان دونوں حوالوں سے اپنی معاصر دنیا سے بحمد اللہ تعالیٰ بہت پیچھے ہے۔
 مغرب میں ’’اسقاط حمل‘‘ کو قانونی حقوق میں شامل کر لیا گیا ہے، اس لیے کہ ’’زنا‘‘ عام ہے اور رضامندی کے زنا کو جرائم کی فہرست سے خارج کیا جا چکا ہے۔
 اس وجہ سے صورت حال یہ ہے کہ زنا پر تو کوئی قدغن نہیں ہے مگر اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے بچے کی ذمہ داری کو خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی دونوں میں کوئی بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور اس کا یہ حل کم و بیش ہر جگہ طے شدہ ہے کہ حمل ہی کو ساقط کرا دیا جائے۔
 جبکہ اسلام میں ماں کے پیٹ میں بچے میں روح پڑ جانے کے بعد اسقاط حمل کو باقاعدہ قتل تصور کیا جاتا ہے اور اس کی شدید ممانعت کی گئی ہے۔ مسیحی دنیا کے پیشوا پاپائے روم بھی اس سلسلہ میں یہی موقف رکھتے ہیں اور مطلقاً اسقاط حمل کو درست قرار دینے کے لیے ابھی تک تیار نہیں ہیں۔
 مگر مغرب کی سیکولر دانش اس قتل کو زنا کار جوڑے کے انسانی حقوق میں شمار کرتی ہے اور دنیا بھر میں اسقاط حمل کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے خود اقوام متحدہ مسلسل سرگرم عمل رہتی ہے، حتیٰ کہ مسلم ممالک سے بھی اس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
 بھارت میں اسقاط حمل کا رجحان عام ہے اور اس کا سبب ’’عار‘‘ ہے کہ معاشرہ میں لڑکی کا باپ ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بے شمار لڑکیاں ماں کے پیٹ میں ہی قتل کر دی جاتی ہیں۔ چین میں اس کا سبب دونوں سے مختلف ہے کہ قومی پالیسی کے طور پر طے کر لیا گیا ہے کہ آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک بچے کی ولادت پر ہی اکتفا کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ لڑکا اور لڑکی میں سے عام طور پر لڑکے کو ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے لڑکی کو دنیا میں آنے سے قبل روانگی کا پروانہ دے دیا جاتا ہے۔ اس سے آبادی میں اضافہ تو روکا جا سکتا ہے لیکن معاشرہ میں مرد و خواتین کے تناسب میں تفاوت مستقبل میں جو ہوشربا صورت اختیار کر سکتا ہے اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے۔
 مغرب نے عورت کے حقوق اور آزادی کا نعرہ تو بلند کر دیا اور اس کا ڈھنڈورا بھی مسلسل پیٹا جا رہا ہے۔ مگر عورت کی تحقیر اور قتل کے اسباب پر قابو پانے میں وہ ابھی تک کامیاب نہیں ہوا بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
 اس لیے کہ فطرت کے قوانین سے انحراف کا نتیجہ بہرحال وہی ہوتا ہے جو آج اقوام متحدہ کی مذکورہ بالا رپورٹ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
 جس سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ معاشرتی امن و سکون اور ترقی و استحکام کے لیے ان فطری قوانین کی طرف رجوع ہی واحد راستہ ہے جو آسمانی تعلیمات کی صورت میں آج بھی ہماری راہنمائی کے لیے محفوظ و موجود ہیں۔

!! آذان اور نماز !!

0 comments
 
امام احمد بن حنبل کے پڑؤس میں ایک لوہار رہتا تھا
جب وہ فوت ہوا تو ایک محدث نے انکو خواب میں دیکھا پوچھا کہ فرمائیں کیا معاملہ پیش آیا

لوہار نے کہا کہ مجھے امام احمد کے برابر درجہ ملا ہے ،اور اللہ مجھ سے راضی ہے
وہ محدث بڑا حٰیران ہوا کہ یہ تو ایک عام دیندار لوہار تھا جبکہ امام احمد تو دین و دنیا کے مسائل سمجھاتے قرآن و احادیث کا رلم پھیلاتے کتنی مشکلات کا سامنا کیا۔اس محدث نے دوسرے علما کو یہ بات بتائی تو سب نے مشورہ کیا کہ ہم لوہار کے اہلہ خانہ سے پتہ کرنا چاہیے
وہ ان کے گھر چلے گئے ۔۔۔۔اس محدث نے پوچھا ۔۔۔۔ بی بی آپکے شوہر کو ہم نے بہت اچھے درجے میں دیکھا ہے کیا اپ ان کے کسی خاص عمل کا علم رکھتی ہے جو ان کی زندگی میں عام تھا؟
لوہار کی بیوی نے کہا میرا شوہر کوئی خاص عمل نہیں کرتا تھا وہ ایک دنیا دار انسان تھا۔۔
سارا دن وہ لوہے کا کام کرتا تھا۔میرے شوہر کے دو نمایا ں عمل جو میں نے محسوس کیے ۔ان میں ایک تو یہ کہ انکے اندر آذان و نماز کا بے حد احترام تھا
اگر لوہے ۔پہ ضرب مارنے کے لیے کبھی انکا ہاتھ اوپر ہوتا اور اسی وقت اللہ اکبر کی آواز آتی تو اپ اسیوقت اپنا ہاتھ نیچے کر لیتے وضو کرتے اور نماز پڑھنے چلے جاتے
دوسری بات یہ کہ میرے شوہر سارا دن دوکان پہ مصروف ہوتے رات کو ہم چھت کے اوپر سوتے ہمارے پڑوس میں امام احمد بن حنبل رہتے تھے
جو ساری ساری رات قرآن کی تلاوت کرتے میرے شوہر حسرت سے انکی طرف دیکھتے اور ٹھنڈی آہیں بھرتے .
اور اللہ سے دعا کرتے کہ یا اللہ میں بے حد غریب انسان ہوں آپ سے میرا کچھ چھپا ہوا نہیں ۔اگر میری کمر ہلکی ہوتی تو میں بھی اس طرح امام صاحب جیسے ساری رات قرآن پڑھتا
اور اس وقت بلک بلک کر رو دیتے تھے۔
اس محدث نے کہا آذان کے ادب اور نیکی کی تڑپ کی وجہ سے ہی اللہ پاک نے آپکے شوہر کی مغفرت کی ہے اور ان کو امام احمد بن حنبل کے برابر درجہ دیا ہے
احباب کرام ہمارے کل ہی کی بات ہے بچپن میں جب کبھی آذان کی اواز اتی تو فورا ٹی وی بند کر دیا جاتا تھا لیکن آج آذان کا کچھ بھی احترام نہیں کیا جاتا اور سٹار پلس چل رہا ہوتا ہے.
نہائت معذرت....
مگر یہ آج کی حقیقت ہے....

!! بنی اسرائیل اور گائے !!

0 comments
 !! بنی اسرائیل اور گائے !!

بنی اسرائیل میں ایک شخص بہت مالدار اور تونگر تھا جس کا نام عامیل بتایا جاتا ہے۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی صرف ایک لڑکی تھی اور ایک بھتیجا تھا بھتیجے نے جب دیکھا کہ بوڑھا تو مرتا ہی نہیں تو اس نے وراثت کے لالچ میں سوچا کہ میں ہی اسے کیوں نہ مار ڈالوں؟
اور اس کی لڑکی سے نکاح بھی کر لوں اور قتل کی تہمت دوسروں پر رکھ کر دیت بھی وصول کرلوں اور مقتول کے مال کا مالک بھی بن جاؤں ۔اس شیطانی خیال میں وہ پختہ ہو گیا اور ایک دن موقع پاکر اپنے چچا کو قتل کر ڈالا۔
بنی اسرائیل کے اچھے لوگ ان دوقوموں کے جھگڑوں بکھیڑوں سے تنگ آ کر یکسو ہو کر ان سے الگ ایک اور شہر میں رہنےلگے۔اور شام کو اپنے قلعہ کا پھاٹک بند کر دیا کرتے۔ اس بھتیجے نے اپنے چچا کی لاش کو لے جا کر اس قلعہ کے پھاٹک کے سامنے ڈال دیا اور یہاں آ کر اپنے چچا کو ڈھونڈنے لگا پھر دہائی مچا دی کہ میرے چچا کو کسی نے مار ڈالا۔
آخر کار ان قلعہ والوں پر تہمت لگا کر ان سے دیت کا روپیہ طلب کرنے لگا انہوں نےاس قتل سے اور اس کے علم سے بالکل انکار کیا، لیکن یہ اڑ گیا یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کو لے کر ان سے لڑائی کرنے پر تل گیا یہ لوگ عاجز آ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور واقعہ عرض کیا کہ یانبی اللہ یہ شخص خواہ مخواہ ہم پر ایک قتل کی تہمت لگا رہا ہے حالانکہ ہم بری الذمہ ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہاں سے وحی نازل ہوئیکہ ان سے کہو ایک گائے ذبح کریں انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی کہاں قاتل کی تحقیق اور کہاں آپ گائے کے ذبح کا حکم دے رہے ہیں؟
کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں؟
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا (اعوذ باللہ) اللہ کے احکامات میں مذاق جاہلوں کا کام ہے اللہ عزوجل کا حکم یہی ہے اب اگر یہ لوگ جا کر کسی گائے کو ذبح کر دیتے تو کافی تھا لیکن انہوں نے سوالات کا دروازہ کھول دیا اور کہا وہ گائے کیسی ہونی چاہئے ؟
اس پر حکم ہوا کہ وہ نہ بہت بوڑھی ہے نہ ہی کم عمر ہے جوان عمر کی ہے انہوں نے کہا حضرت ایسی گائیں تو بہت ہیں یہ بیان فرمائیے کہ اس کا رنگ کیا ہے ؟
وحی اتری کہ اس کا رنگ بالکل صاف زردی مائل ہے باہر دیکھنے والے کی آنکھوں میں اترتی جاتی ہے پھر کہنے لگے حضرت ایسی گائیں بھی بہت سی ہیں کوئی اور ممتاز وصف بیان فرمائیے وحی نازل ہوئی کہ وہ کبھی ہل میں نہیں جوتی گئی، کھیتوں کو پانی نہیں پلایا ہر عیب سے پاک ہے یک رنگی ہے کوئی داغ دھبہ نہیں جوں جوں وہ سوالات بڑھاتے گئے حکم میں سختی ہوتی گئی۔
اب ایسی گائے ڈھونڈنے کو نکلے تو وہ صرف ایک لڑکے کے پاس ملی۔ یہ بچہ اپنے ماں باپ کا نہایت فرمانبردار تھا ایک مرتبہ جبکہ اس کا باپ سویا ہوا تھااور نقدی والی پیٹی کی کنجی اس کے سرہانے تھی ایک سوداگر ایک قیمتی ہیرا بیچتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ میں اسے بیچنا چاہتا ہوں لڑکے نے کہا میں خریدوں گا قیمت ستر ہزار طے ہوئی لڑکے نے کہا ذرا ٹھہرو جب میرے والد جاگیں گے تو میں ان سے کنجی لے کر آپ کو قیمت ادا کر دونگا اس نے کہا ابھی دے دو تو دس ہزار کم کر دیتا ہوں اس نے کہا نہیں حضرت میں اپنے والد کو نہیں جگاؤں گا۔
تم اگر ٹھہر جاؤ تم میں بجائے ستر ہزار کے اسی ہزار دوں گا یونہی ادھر سے کمی اور ادھر سے زیادتی ہونی شروع ہوتی ہےیہاں تک کہ تاجر تیس ہزار قیمت لگا دیتا ہے کہ اگر تم اب جگا کر مجھے روپیہ دے دو میں تیس ہزار میں دیتا ہوں لڑکا کہتا ہے اگر تم ٹھہر جاؤ یا ٹھہر کر آؤ میرے والد جاگ جائیں تو میں تمہیں ایک لاکھ دوں گا آخر وہ ناراض ہو کر اپنا ہیرا واپس لے کر چلا گیا باپ کی اس بزرگی کے احساس اور ان کے آرام پہنچانے کی کوشش کرنے اور ان کا ادب و احترام کرنے سے پروردگار اس لڑکے سےخوش ہو جاتا ہے اور اسے یہ گائے عطا فرماتا ہے
۔ جبکہ تفسیر خازن میں مزید لکھا ہے۔
اس لڑکے کے باپ بنی اسرائیل کا ایک بہت ہی نیک اور صالح بزرگ تھے اور ان کا ایک ہی بچہ تھا جو نابالغ تھا۔اور ان کے پاس فقط ایک گائے کی بچھیا تھی۔ ان بزرگ نے اپنی وفات کے قریب اس بچھیا کو جنگل میں لے جا کر ایک جھاڑی کے پاس یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یااللہ (عزوجل)میں اس بچھیا کو اس وقت تک تیری امانت میں دیتا ہوں کہ میرا بچہ بالغ ہوجائے۔ اس کے بعد ان بزرگ کی وفات ہو گئی اور بچھیا چند دنوں میں بڑی ہو کر درمیانی عمر کی ہو گئی اور بچہ جوان ہو کر اپنی ماں کا بہت ہی فرمانبردار اور انتہائی نیکوکار ہوا۔
اس نے اپنی رات کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ ایک حصہ میں سوتا تھا،اور ایک حصہ میں عبادت کرتا تھا،اور ایک حصہ میں اپنی ماں کی خدمت کرتا تھا۔ اور روزانہ صبح کو جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور ان کو فروخت کر کے ایک تہائی رقم صدقہ کردیتا اور ایک تہائی اپنی ذات پر خرچ کرتا اور ایک تہائی رقم اپنی والدہ کو دے دیتا۔
ایک دن اس کی والدہ نے کہا:
اے نورِ نظر! تیرے باپ نے تیرے لئے فلاں جنگل میں خدا کے نام ایک بچھڑی چھوڑی تھی وہ اب جوان ہوگئی ہوگی، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تجھے عطا فرمائے اورتو اسے جنگل سے لے آ۔ لڑکا جنگل میں گیااور اس نے گائے کو جنگل میں دیکھا اوروالدہ کی بتائی ہوئی علامتیں اس میں پائیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر بلایا تووہ حاضر ہوگئی۔
وہ جوان اس گائے کو والدہ کی خدمت میں لایا۔ والدہ نے بازار میں لے جا کر تین دینار پر فروخت کرنے کا حکم دیا اور یہ شرط کی کہ سودا ہونے پر پھر اس کی اجازت حاصل کی جائے، اس زمانہ میں گائے کی قیمت ان اطراف میں تین دینار ہی تھی۔ نوجوان جب اس گائے کو بازار میں لایا تو ایک فرشتہ خریدار کی صورت میں آیا اور اس نے گائے کی قیمت چھ دینار لگادیمگر یہ شرط رکھی کہ نوجوان اپنی والدہ سے اجازت نہیں لے گا۔
نوجوان نے یہ منظور نہ کیا اور والدہ سے تمام قصہ کہا، اس کی والدہ نے چھ دینار قیمت منظور کرنے کی تو اجازت دی مگر بیچنے میں پھر دوبارہ اپنی مرضی دریافت کرنے کی شرط لگادی۔نوجوان پھر بازار میں آیا، اس مرتبہ فرشتہ نے بارہ دینار قیمت لگائی اور کہا کہ والدہ کی اجازت پر موقوف نہ رکھو۔ نوجوان نے نہ مانا اور والدہ کو اطلاع دی وہ صاحب فراست عورت سمجھ گئی کہ یہ خریدار نہیں کوئی فرشتہ ہے جو آزمائش کے لیے آتا ہے۔
بیٹے سے کہا کہ اب کی مرتبہ اس خریدار سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں اس گائے کے فروخت کرنے کا حکم دیتے ہیں یا نہیں ؟لڑکے نے یہی کہا توفرشتے نے جواب دیا کہ ابھی اس کو روکے رہو، جب بنی اسرائیل خریدنے آئیں تو اس کی قیمت یہ مقرر کرنا کہ اس کی کھال میں سونا بھر دیا جائے۔
۔ نوجوان گائے کو گھر لایا اور جب بنی اسرائیل جستجو کرتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچے تو یہی قیمت طے کی اور
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ضمانت پر وہ گائے بنی اسرائیل کے سپرد کی۔-) جب بنی اسرائیل اس قسم کی گائے ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو سوائے اس لڑکے کے اور کسی کے پاس نہیں پاتے اس سے کہتے ہیں کہ اس ایک گائے کے بدلے دو گائیں لے لو یہ انکار کرتا ہے پھر کہتے ہیں تین لے لو چار لے لو لیکن یہ راضی نہیں ہوتا دس تک کہتے ہیں مگر پھر بھی نہیں مانتا یہ آ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شکایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں جو یہ مانگے دو اور اسے راضی کر کے گائے خریدو آخر گائے کے وزن کے برابر سونا دیا گیا تب اس نے اپنی گائے بیچی یہ برکت اللہ نے ماں باپ کی خدمت کی وجہ سے اسے عطا فرمائی جبکہ یہ بہت محتاج تھا اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا اور اس کی بیوہ ماں غربت اور تنگی کے دن بسر کر رہی تھی۔
الغرض اب یہ گائے خرید لی گئی اور اسے ذبح کیا گیا اور اس کے جسم کا ایک ٹکڑا لے کر مقتول کے جسم سے لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ مردہ جی اٹھا اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں کس نے قتل کیا ہے اس نے کہامیرے بھتیجے نے اس لئے کہ وہ میرا مال پر قابض ہونا چاہتا تھا۔
اور میری لڑکی سے نکاح کر نا چاہتا تھا بس اتنا کہہ کر وہ پھر مر گیا اور قاتل کا پتہ چل گیا اور بنی اسرائیل میں جو جنگ و جدال ہونے والی تھی وہ رک گئی اور یہ فتنہ دب گیا اس بھتیجے کو لوگوں نے پکڑ لیا اس کی عیاری اور مکاری کھل گئی اور اسے اس کے بدلے میں قتل کر ڈالا گیا یہ قصہ مختلف الفاظ سےمروی ہے۔
قرآن حکیم فرقان حمید میں پارہ۱،البقرۃ:۶۷تا ۸۳میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ :۔ اوریاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: بیشک اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو تو انہوں نے کہاکہ کیاآپ ہمارے ساتھ مذاق کرتے ہیں ؟ موسیٰ نے فرمایا، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بتادے کہ وہ گائے کیسی ہے؟ فرمایا:اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے جو نہ توبوڑھی ہے اور نہ بالکل کم عمربلکہ ان دونوں کے درمیان ہے۔ تو وہ کرو جس کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے،اس گائے کا رنگ کیسا ہے؟ فرمایاکہو اللہ فرماتا ہے کہ وہ پیلے رنگ کی گائے ہے جس کا رنگ بہت گہرا ہے۔ وہ گائے دیکھنے والوں کو خوشی دیتی ہے۔
انہوں نے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے واضح طور پر بیان کردے کہ وہ گائے کیسی ہے؟ کہ بیشک گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے اور اگراللہ چاہے گا تو یقینا ہم راہ پائیں گے
 خیر ہو,خوش رہیں ,سلامت رہیں


٭حق کی رعنائیاں٭

0 comments

٭حق کی رعنائیاں٭


Wednesday, March 8, 2017

!! مسافر سفر منزل !!

0 comments

!! مسافر سفر منزل !!

سفر درحقیقت خود کو دریافت کرنے کا عمل ہے.ایک گم گشتہ ”خود“ کی دریافت کا عمل ….خود کو بازیافت کرنے کا عمل !. اِس یافت اور بازیافت کے دائرے میں سفر کرتا ہوامسافر اپنی ” میں “ کھو بیٹھتاہے.تاکہ وہ کسی ”تو“ کے حضور باریاب ہوسکے ۔ ”میں “ …. جب ”تو“ کے حضور پہنچتی ہے تو ”من و تو“ کی بحث ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ کوئی ”در“ یافت ہوجائے تو نایافت. یافت ہونے لگتاہے ۔ باہر ”تو“ دریافت ہوتے ہی ”من ‘‘ کا ”اندر“ بازیافت ہوجاتاہے!!
یہ سفر نہیں بلکہ اندازِ سفر ہے جومسافر کی منزل کا پتہ دیتاہے۔ کوئی منفی انداز کسی مثبت منزل تک نہیں لے جاسکتا۔ کوئی متغیر اور منفی طرزِ فکر اُس منزل تک رسائی نہیں پاسکتاجسے ثبات اور اثبات کانام دیاجاتاہے ۔ بہت سے مسافر سوئے کعبہ روانہ ہوئے مگر اُن کی نیّت اُنہیں ذات کی بجائے ذاتیات میں لے گئی …. اُن کا اندازِ سفر اُنہیں اپنے مفادات کے سومنات کی طرف لے گیا۔ درحقیقت سوئے حرم جانے والے مسافر کی راہ میں ہر غرض ایک بُت ہے ….ہر مفاد ایک معبود
مسافر سفر اور منزل کے درمیان ایک راز عجب ہے ۔ مسافر سفر کرتا ہوا خود ہی نشانِ منزل بن جاتاہے …. اور آخر ِ کارخود ہی منزل!!
گویا مسافرجب اپنے سفر کے اختتام کو پہنچتاہے تو خود کو بصورتِ منزل پاتا ہے...... بلاشبہ خود کو پانا ہی منزل پانا ہے.

گرد آلود ہواؤں کو پیغام

0 comments
گرد آلود ہواؤں کو پیغام
گرد آلود ہواؤں نے آسمان پر مستقل سکونت اختیار کبھی نہیں کی
ان کا بسیرا بادلوں کے زیرسایہ ہی رہااور بادلوں نے جب چاہا انہیں زمین پر دھکیل دیا۔ ہوائیں جب انہیں اپنی آغوش میں لے کر سیر کو نکلتی ہیں تو ہوائیں ہی بادلوں کو زمین کے ایک حصہ سے دوسرے تک لے کر آسمان کو اُجلا بناتی چلتی ہیں۔ستاروں کی چمک اور چاندنی نکھری زمین کو روشنیوں سے نہلاتی ہے۔زمین کے شانے پر پھیلے درخت جھوم اُٹھتے ہیں، پھول نکھر کر خوشبو پھیلاتے ہیں۔ درختوں سے روشن آلاؤ صدیوں جل کر بھی زمین و آسمان کے تعلق نہ توڑ سکے۔
زندگی بظاہر مشکل تھی میلوں کا سفر دنوں مہینوں میں طے پاتا۔ آج چٹکیوں میں سماعت و بصارت ہزاروں میل کا سفر طے کر لیتی ہےمگر تہہ زمین لوہا، سونا، گیس اور تیل نے زندگی کی رفتار بڑھا کر قدموں کو جام کر دیا۔عجب ماجرہ ہے زمین کے اندر نے اس کے حسن کو گہنا دیا اور انسان کے باہر نے اسے سلا دیا۔
نکھرنا کھلنا اور مہکنا دھوئیں سے داغدار ہو گیا۔ریشم نے جان پر کھیل کر انمول بنا دیا۔ پتوں پھولوں اوربالوں نےبدن ڈھانپنے کا اور پتھروں نے آرائش کا کام سنبھالا۔منوں ٹنوں وزنی ایجادات گرام کلو میں انگلیوں کی پوروں پر جانچی جانے لگی۔تن آسانی نے اندر اتنے بھاری کر دئیے کہ بیماریوں کی آماجگاہ بن گئے۔حسن لباس میں رہ گیا ،
علم ڈگریوں میں، جوانی کے پل بھاگ دوڑ میں اور بڑھاپا آنکھوں کی پلک میں۔شفاخانے بیماروں کے لئے مرغن غذاؤں کے ریستوران سے بڑھ کر عزیز ہوتے ہیں۔ آبشاروں سے گرتا پانی ندی نالوں سے گزرتا شور مچاتا منزل مقصود پر پہنچ کر دم سادھ لیتا ہے مگر جھیل کے ٹھہرے پانی پر پھینکا گیا ایک معمولی کنکر لہروں کو بے آرامی کی اذیت سے دوچار کر دیتا ہے۔ جنگلی بھینسہ گھاس پھوس کھا کر شیروں کے شکار کی طاقت حاصل نہیں کر سکتا۔وقت کے فرعون پتھروں میں کنندہ تو ہو سکتے ہیں
مگر زمانے پر گرفت سے محروم رہتے ہیں۔ناموری کی طلب شہرت کی خواہش طاقت کی بھوک نے آنکھوں پہ جھوٹ کا کالا موتیا ایسے اتارا ہے کہ اصل منظر دھندلا گیا ہے۔آم کے پودے آنار کی پیوندکاری سے پروان نہیں چڑھ سکتے البتہ کھٹے میٹھے بنائے جا سکتے ہیں۔ جو معاشرے سچ میں جھوٹ کی پیوند کاری سے پروان چڑھیں، جہاں شخصی محبت اجارہ داری اور روا داری میں تمیز کرنا بھول جائے، وہ بے حسی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے انتظار میں رہتے ہیں۔

اللہ ذوالجلال محمدﷺ کی اطاعت

0 comments




اللہ ذوالجلال محمدﷺ کی اطاعت

اللہ کی بندگی اورمحمدﷺکی اطاعت میں زندگیاں وقف کر دیں
زندگی کی شام ڈھلتی رہتی ہے ، اندھیرے پھیلتے رہتے ہیں ، نہ سفر تمام ہوتا ہے اور نہ ہی دل کے دئیے روشن ہوتے ہیں۔ بس ایک تماشا ہے جو آنکھوں کی پتلیوں نے دیکھا۔ کبھی کبھار سوچ ایسی جادوئی قوت سے بھرپور وار کرتی ہے کہ عمل تیز دھار تلوار کے سامنے ایک کمزور شاخ کی طرح کٹ کٹ کر گرتے جاتے ہیں۔
وجود شکست خوردہ فوج کی طرح ہتھیار پھینک کر قیدی ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات فتح غافل کر دیتی ہے اور کبھی شکست مضبوط حصار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ماضی کی کمزور اور کچی دیواریں آج قدآور بلند ستونوں پر محرابوں سے مزین بلند و بالا عبادت گاہیں عازم مسافران کو خالق حقیقی کے جاہ و جلال، اختیار قدرت اور انجام بے خبری کے لئے نوشتہ دیوار ہیں۔
نئے آنے والے جانے والوں کے قدموں کے نشانات کی کھوج میں رہتے ہیں۔ مگر قدموں کےنشان تو ان کے پھتر بھی محفوظ کرنے کے پابند ہوتے ہیں جو ویرانوں میں بیوی اور بچہ چھوڑ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک تعالی انہیں مقام ابراھیم بنا کر اپنے گھر کے سامنے محفوظ کر دیتا ہے۔ اللہ جنہیں محبوب بنا لیتا ہے انہیں مشعل راہ بنا دیتا ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں اتر کر بھی نشان راہ بن جاتے ہیں۔
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں پر خطر راہ عشق کے امتحاں اتنے آساں بھی نہیں کہ ایک جھلک دیکھنے کے لئے رو برو ہو جائیں۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جس کے جواب رٹے رٹائے ہیں مگر جو سوال لوح و قلم سے لکھے گئے ہیں
ان کے جواب عمل کی سیاہی سے دستور حیات کے کاغذ پہ لکھے جاتے ہیں۔ سائل کتابیں کھول کھول دعاوں میں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔
جہاں ایک نقطہ سے مفہوم بدل جانے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ خوبصورت منظر کشی کرنے والے رائیٹر ہو سکتے ہیں یا پینٹر۔ آرٹ کے قدیم گراں قدر نمونے ناقابل یقین قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ مگر وہ گلاب کے پھول کی ایک پنکھڑی سے بھی بیش قیمت نہیں ہو سکتے۔ باغوں بہاروں، پہاڑوں اور نخلستانوں میں بارش کی ہر بوند کا ایک ہی رنگ و ذائقہ ہے
مگر جب زمین سے نکالا جائے تو تاثیر بدل جاتی ہے۔ اللہ تبارک تعالی کا فرمان قرآن ایک ہی ہے مگر ہر جگہ کی تاثیر الگ الگ۔ سونا بنانے کا فارمولہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ زندگی بھول جاتے ہیں مگر سونا تو ڈھونڈ کر نکالا جاتا ہے ، پھر بھٹی میں پکا کر ڈھالا جاتا ہے۔ ہیرے جڑے نگینے کی قیمت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ عشق مجازی میں ہر شے قابل خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مگر عشق حقیقی میں دام نہیں ہوتے الفت ہوتی ہے۔
کتنے عظیم لوگ تھے جنہوں نے اللہ کی بندگی اور رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کی اطاعت میں زندگیاں وقف کر دیں۔ جو قرآن کی ابتدائی آیات پر ایمان لے آئے۔ ہمارے پاس تو مکمل قرآن پاک ہے۔ اللہ تبارک تعالی ہمیں ایمان کی سلامتی دے اور حق پر رہنے اور سچ کہنے کی قوت ایمانی سے سرفراز کرے آمین

!زندگی سفید کفن ہی تو ہے!

0 comments
زندگی سفید کفن ہی تو ہے!

جنگل کی دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو کا عالم ۔۔۔۔۔۔۔خاموش آسمان ۔۔۔۔۔۔۔ننگے پاؤں!
کانٹے بھرے راستے۔۔۔۔۔۔۔۔بے پرواہ ہوائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلگتے وجود پہ بوند بوند قطروں کا ٹھنڈا احساس ۔۔۔۔۔۔ زمانے کے رائج رواجوں کی چٹانوں سےبے بس لہروں کی طرح ٹکرا ٹکرا کر لوٹ جاتا ہے۔
ماں کی آغوش میں بتائے پل ،حالات کی کسی رسیوں کے بل کو کچھ پل کے لئے ڈھیلا کر دیتے ہیں۔ایک نے محبت سے بھر کر دنیا میں بھیج دیا اور ایک محبت میں ڈبو کر دنیا چھوڑ گیا ۔
غرض و مفاد کی اونچی عمارتوں تک نفرت کی آگ کے شعلے دھواں بن پہنچتے ہیں۔ جو بھٹکے وہاں پہنچیں تو دوا اُن پر بے اثر ہو جاتی ہے اور دعائیں کارگر نہیں ہوتیں۔
عجب زندگانی ہے کان میں اذان دینے سے چارپائی پر لٹا کر نماز پڑھنے تک رنگ اور سائز کا معمولی فرق بھی طبیعت پر گراں گزرتا ہے ۔
!!!پھر
کچھ بھی نیا نہیں وہی صدیوں پرانے سفید کفن کا اہتمام۔۔۔ باقی۔۔!

٭زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں٭

0 comments

٭زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں٭
زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں تو جدوجہد کی طویل فہرست دکھائی دیتی ہے!!
انتھک سفر کے بعد کامیابی کا ایک پڑاؤ پھر نیا سفر لیکن منزل سے کوسوں دور، صبر کی چوٹیوں کے پار ،طغیانی بھرے دریا گنگناتی آبشاروں کے گیت کو شور میں دباتے ڈھلوانوں کی طرف گامزن پہلے ہوش اُڑاتے پھر ہوش ٹھکانے لگاتے مایوسیوں کی ناؤ بہاتے گزرتے جاتے ہیں۔
دنیا ایک ایسی دوکان ہے جہاں ضرورت کے مطابق داخل ہوا جاتا ہےاور پسند کی شے لے کر نکل جانا ہوتا ہے۔ اگر دربند ہو تو دستک سے کھلوایا نہیں جاتا بلکہ ازخود کھلنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ جب منزل تک پہنچنے کے راستے جدا جدا ہوں تو آسان راستوں پر رک کر پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار نہیں کیا جاتا
بلکہ سفر کو جاری رکھا جاتا ہے۔ کہیں ہاتھ دے کر بٹھا نہ دیئے جاؤ۔ قدم گن کر فاصلے طے نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی لہریں گن کر سمندر پہ سفر کئے جا سکتےہیں
جو انا و خودداری کی بھٹی میں صرف جلنے کا ایندھن بنے رہنے کو ترجیح دیتے ہوں وہ وقت سے پہلے سوکھ کر دھوئیں میں ڈھلنا نصیب سمجھتے ہیں۔لفظ جب شناخت بن جاتے ہیں تو لفظ کہانی ختم ہو جاتی ہے ایک سوچ زندہ ہو جاتی ہے۔ پھر آنے والے بنا دستک کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور باہر نکلنے والوں کے پیچھے دروازے بند ہو جاتے ہیں