Showing posts with label ٭زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں٭. Show all posts
Showing posts with label ٭زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں٭. Show all posts

Wednesday, March 8, 2017

٭زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں٭

0 comments

٭زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں٭
زندگی کے اوراق پلٹتے جائیں تو جدوجہد کی طویل فہرست دکھائی دیتی ہے!!
انتھک سفر کے بعد کامیابی کا ایک پڑاؤ پھر نیا سفر لیکن منزل سے کوسوں دور، صبر کی چوٹیوں کے پار ،طغیانی بھرے دریا گنگناتی آبشاروں کے گیت کو شور میں دباتے ڈھلوانوں کی طرف گامزن پہلے ہوش اُڑاتے پھر ہوش ٹھکانے لگاتے مایوسیوں کی ناؤ بہاتے گزرتے جاتے ہیں۔
دنیا ایک ایسی دوکان ہے جہاں ضرورت کے مطابق داخل ہوا جاتا ہےاور پسند کی شے لے کر نکل جانا ہوتا ہے۔ اگر دربند ہو تو دستک سے کھلوایا نہیں جاتا بلکہ ازخود کھلنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ جب منزل تک پہنچنے کے راستے جدا جدا ہوں تو آسان راستوں پر رک کر پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار نہیں کیا جاتا
بلکہ سفر کو جاری رکھا جاتا ہے۔ کہیں ہاتھ دے کر بٹھا نہ دیئے جاؤ۔ قدم گن کر فاصلے طے نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی لہریں گن کر سمندر پہ سفر کئے جا سکتےہیں
جو انا و خودداری کی بھٹی میں صرف جلنے کا ایندھن بنے رہنے کو ترجیح دیتے ہوں وہ وقت سے پہلے سوکھ کر دھوئیں میں ڈھلنا نصیب سمجھتے ہیں۔لفظ جب شناخت بن جاتے ہیں تو لفظ کہانی ختم ہو جاتی ہے ایک سوچ زندہ ہو جاتی ہے۔ پھر آنے والے بنا دستک کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور باہر نکلنے والوں کے پیچھے دروازے بند ہو جاتے ہیں